2 اگست 2014 - 11:10
سعودی باسی کڑھی میں ابال آ گيا/ مفتی اعظم نے آخر کار زبان کا تالا کھول ہی دیا

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے غزہ پٹی میں صیہونیوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام پر تین ہفتوں کی خاموشی کے بعد دعوی کیا ہے کہ سعودی حکام فلسطینیوں کا قتل عام رکوانے کی کوشش کررہے ہيں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے غزہ پٹی میں صیہونیوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام پر تین ہفتوں کی خاموشی کے بعد دعوی کیا ہے کہ سعودی حکام فلسطینیوں کا قتل عام رکوانے کی کوشش کررہے ہيں۔
لبنان کی النشرہ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مفتی اعظم نے غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کے سلسلے میں آل سعود حکومت کے موقف پر ہونے والی تنقیدوں پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کو ظالمانہ قرار دیا اور ان جرائم کے سلسلے میں عالمی برادری کی خاموشی کا اعتراف کیا۔ یہ وہی مفتی ہیں جہنوں نے عاشورا کے دن اپنے بیٹے کی شادی کی تھی اور خوشی منائی تھی۔
واضح رہے کہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بھی جمعہ کے بعد اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں غزہ کے جرائم پر عالمی خاموشی پرتنقید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات انسانیت کے خلاف جنگی جرائم ہيں اور تل ابیب کسی بھی انسانی اور اخلاقی اصول کا پابند نہيں ہے۔

واضح رہے بعض ایسی میڈیا رپورٹیں سامنے آئي ہيں جن میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امارات کے حکام نے صیہونی حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ اگر حماس کا خاتمہ کردیا جائے تو وہ صیہونی حکومت کو جنگ کا پورا خرچہ دینے کو تیار ہیں۔ بعض رپورٹوں میں غزہ پرصیہونی حکومت کی تازہ جارحیت کو سعودی عرب اور امارات کی سازش قراردیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲